:
Breaking News

Entertainment News: للت مودی نے بگ باس 20 میں شرکت کی خبروں کو فرضی قرار دے دیا

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Entertainment News | للت مودی نے بگ باس 20 میں شرکت کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے اسے فرضی خبر قرار دیا اور قانونی نوٹس جاری کیا ہے۔

نئی دہلی، 15 اگست۔ انڈین پریمیئر لیگ کے بانی اور معروف کاروباری شخصیت للت مودی نے بگ باس 20 میں شرکت کرنے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ للت مودی کی ٹیم کی جانب سے جاری قانونی نوٹس کے بعد ان خبروں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ وہ سلمان خان کے مقبول ریئلٹی شو بگ باس 20 کا حصہ بن سکتے ہیں۔

للت مودی نے خود بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ان خبروں کی تردید کی اور انہیں فرضی قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بگ باس 20 میں شرکت کے لیے نہ تو شو کے منتظمین کی جانب سے ان سے رابطہ کیا گیا اور نہ ہی وہ اس پروگرام میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔

للت مودی نے سوشل میڈیا پر کیا کہا؟

افواہوں کے درمیان للت مودی نے سوشل میڈیا پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ بگ باس 20 میں ان کی شرکت سے متعلق خبریں درست نہیں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ کسی شخص کے بارے میں خبر شائع کر دی جائے اور خبر شائع کرنے سے پہلے خود متعلقہ شخص سے تصدیق تک نہ کی جائے۔

انہوں نے میڈیا اداروں سے اپیل کی کہ کسی بھی خبر کو شائع کرنے سے پہلے اس کی حقیقت جانچ لی جائے۔ ان کے مطابق بغیر تصدیق کے کسی دعوے کو خبر کی شکل دینا مناسب صحافتی طریقہ نہیں ہے۔

قانونی نوٹس میں کیا کہا گیا؟

للت مودی کی قانونی ٹیم کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بگ باس 20 میں ان کی شرکت سے متعلق شائع اور نشر کی جانے والی خبریں غلط، بے بنیاد اور شرپسندانہ نوعیت کی ہیں۔

نوٹس کے مطابق پروگرام کے پروڈیوسر، براڈکاسٹر، چینل یا شو سے وابستہ کسی بھی شخص نے للت مودی سے پروگرام میں شرکت کے سلسلے میں رابطہ نہیں کیا۔ اس کے علاوہ للت مودی نے کسی شخص کو بھی اپنی جانب سے اس معاملے میں بات چیت یا نمائندگی کے لیے اختیار نہیں دیا ہے۔

قانونی ٹیم نے یہ بھی واضح کیا کہ للت مودی نے بگ باس 20 میں شرکت کے لیے نہ کوئی رضامندی دی ہے اور نہ ہی مستقبل میں اس پروگرام سے وابستہ ہونے کا کوئی ارادہ ظاہر کیا ہے۔

نام اور تصویر کے استعمال پر بھی اعتراض

قانونی نوٹس میں للت مودی کے نام، تصویر اور شخصیت سے متعلق دیگر شناختی عناصر کے استعمال پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ ان کی ٹیم کا کہنا ہے کہ کسی بھی خبر یا مواد میں اس انداز سے ان کا نام یا تصویر استعمال نہیں کی جانی چاہیے جس سے عوام کو یہ تاثر ملے کہ للت مودی اور بگ باس 20 کے درمیان کوئی باضابطہ تعلق قائم ہو گیا ہے۔

للت مودی کی ٹیم نے میڈیا اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ایسی رپورٹس کو ہٹانے یا واپس لینے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی مستقبل میں اس قسم کی غیر مصدقہ خبروں کو دوبارہ شائع یا نشر نہ کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

بگ باس 20 کو لے کر پہلے سے جوش

سلمان خان کی میزبانی میں بگ باس کا نیا سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی پروگرام کو لے کر شائقین میں کافی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔ نئے سیزن میں کون کون سے چہرے نظر آئیں گے، اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر مختلف نام گردش کر رہے ہیں۔

اسی دوران للت مودی کا نام بھی بگ باس 20 سے جوڑا گیا، جس کے بعد یہ خبر تیزی سے پھیلنے لگی۔ تاہم اب خود للت مودی کی جانب سے تردید اور قانونی نوٹس سامنے آنے کے بعد ان کی شرکت کی قیاس آرائیوں پر فی الحال بریک لگ گیا ہے۔

سلمان خان کی واپسی پر بھی نگاہیں

بگ باس کے نئے سیزن میں سلمان خان ایک بار پھر ناظرین کے سامنے میزبانی کرتے نظر آئیں گے۔ شو کے نئے سیزن کو لے کر پروڈیوسرز کی جانب سے پروموشنل سرگرمیاں بھی شروع کی جا چکی ہیں۔ ایسے میں ممکنہ شرکاء کے ناموں کو لے کر سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کا سلسلہ بھی تیز ہے۔

تاہم کسی بھی فنکار یا معروف شخصیت کے شو میں شامل ہونے کی حتمی تصدیق صرف پروگرام کے منتظمین یا متعلقہ شخصیت کی جانب سے ہونے کے بعد ہی کی جا سکتی ہے۔

للت مودی کا نام کیوں آیا؟

للت مودی انڈین پریمیئر لیگ کے ابتدائی دور کے سب سے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔ آئی پی ایل کے انتظامی ڈھانچے میں ان کے کردار کی وجہ سے انہیں ہندوستان اور بیرون ملک خاصی شہرت ملی۔ بعد کے برسوں میں آئی پی ایل سے متعلق مختلف تنازعات کے باعث بھی وہ مسلسل خبروں میں رہے۔

وہ 2010 سے لندن میں مقیم ہیں۔ ان کی بیرون ملک رہائش اور آئی پی ایل سے متعلق تنازعات کی وجہ سے وقتاً فوقتاً ان کی ہندوستان واپسی کے بارے میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

اسی پس منظر میں جب بگ باس 20 میں ان کی ممکنہ شرکت کی خبر سامنے آئی تو سوشل میڈیا پر بھی اس پر بحث شروع ہو گئی۔ لیکن للت مودی نے خود اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

غیر مصدقہ خبروں سے بچنے کی ضرورت

للت مودی کے معاملے نے ایک بار پھر یہ سوال سامنے لایا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں غیر مصدقہ معلومات کتنی تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ کسی معروف شخصیت کا نام کسی بڑے پروگرام سے جوڑنا آسان ہے، لیکن جب تک متعلقہ شخص یا پروگرام کے منتظمین اس کی تصدیق نہ کریں، اسے حتمی خبر نہیں سمجھا جا سکتا۔

صحافت میں خبر کی تصدیق بنیادی اصول ہے۔ خاص طور پر کسی شخص کی شرکت، معاہدے یا کسی پروگرام سے وابستگی جیسے معاملے میں متعلقہ فریق کا موقف جاننا ضروری ہوتا ہے۔ للت مودی کی قانونی کارروائی بھی اسی معاملے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

فی الحال للت مودی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بگ باس 20 کا حصہ نہیں بن رہے ہیں۔ ان کی ٹیم نے بھی قانونی نوٹس کے ذریعے ان خبروں کی تردید کر دی ہے۔ اب بگ باس 20 میں کون سے نئے چہرے شامل ہوتے ہیں، اس کا فیصلہ باضابطہ اعلان کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بگ باس 20 میں سلمان خان کی واپسی، نئے سیزن کو لے کر بڑھا جوش

سوشل میڈیا کی افواہوں پر کیسے کریں یقین؟

اداریہ خیال: خبر کی رفتار سے زیادہ اہم خبر کی تصدیق

ڈیجیٹل دور میں خبر چند لمحوں میں ہزاروں اور لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی رفتار کبھی کبھی غیر مصدقہ اطلاعات کو بھی خبر بنا دیتی ہے۔ للت مودی سے متعلق معاملہ اسی حقیقت کی ایک مثال ہے۔ کسی مشہور شخصیت کا نام کسی بڑے ٹی وی شو سے جوڑنے والی خبر لوگوں کی دلچسپی ضرور بڑھاتی ہے، لیکن دلچسپ خبر اور مصدقہ خبر میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ میڈیا اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خبر شائع کرنے سے پہلے متعلقہ شخص یا مستند ذریعے سے تصدیق کریں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کو بھی ہر وائرل دعوے کو سچ سمجھ کر آگے بڑھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ خبر کی رفتار سے زیادہ اہم اس کی صداقت ہے، کیونکہ ایک غلط خبر صرف ایک شخص کی ساکھ ہی نہیں بلکہ پورے میڈیا نظام پر اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *